مرے رستے کی یہ رنگیں گلی اب خار کب ہو گی

غزل

مرے رستے کی یہ رنگیں گلی اب خار کب ہو گی
وہ شمشیر  مرے سینے سے اب اس پار کب ہو گی
تخیل میں ترے پیکر کا وہ جادو جگاتا ہوں
مری آنکھوں میں تصویرِ رخِ دلدار کب ہو گی
ترے لب کی وہ جنبش روح کو تڑپا ہی دیتی ہے
مری خاموش ہستی محرمِ اسرار کب ہو گی
بچھڑ کر تجھ سے شاہِ خوباں، یہ عالم مرے دل کا
فقط یادوں کے سائے میں سحر آثار کب ہو گی
تری مخمور نظروں کا کوئی صدقہ ہی مل جائے
مری تشنہ لبی آخر یہاں سرشار کب ہو گی
لکھی ہے مات ہی کیا اب مقدر میں اسدؔ میرے
ہماری جیت کی آخر یہاں تکرار کب ہو گی

غزل کی روحانی و فلسفیانہ تشریح

دیباچہ: محمد اسدؔ علی کی یہ غزل تغزل کے تمام رنگوں سے مزین ہے۔ اس کلام میں شاعر نے مجازی زبان استعمال کرتے ہوئے حقیقت کے ان اسرار کو چھوا ہے جو ایک عاشقِ صادق کے دل پر بیتتے ہیں۔ "کلیاتِ اسدؔ" کی یہ غزل انتظار، تڑپ اور آرزوئے دید کا ایک مکمل مرقع ہے۔

مطلع کی تشریح: شاعر اپنی زندگی کی موجودہ حالت اور درپیش آزمائشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال کرتا ہے کہ یہ "رنگیں گلی" یعنی دنیا کی ظاہری چمک دمک جو اب میرے لیے کانٹوں (خار) کی طرح تکلیف دہ بن چکی ہے، اس سے نجات کب ملے گی؟ "شمشیر کا سینے سے پار ہونا" ایک بلیغ استعارہ ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ غمِ عشق اور جدائی کی تکلیف جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے، تو عاشق دعا کرتا ہے کہ یا تو وصال ہو جائے یا یہ تڑپ مکمل ہو کر اسے فنا کر دے۔ یہ شعر انسانی بے چینی اور سکون کی تلاش کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

تخیل اور تصویرِ یار: دوسرے شعر میں شاعر اپنے باطن کی کیفیت بیان کرتا ہے کہ اگرچہ آنکھوں کے سامنے محبوب نہیں، مگر تخیل کے آئینے میں وہ ہر لمحہ محبوب کے پیکر کا جادو جگائے رکھتا ہے۔ "تصویرِ رخِ دلدار" کی تمنا دراصل اس حقیقی مشاہدے کی خواہش ہے جو پردہِ غیب سے نکل کر سامنے آئے۔ اسدؔ صاحب یہاں واضح کرتے ہیں کہ صرف تصور سے دل نہیں بہلتا، اب وہ لمحہ کب آئے گا جب ظاہری آنکھوں کو بھی اس نور کا دیدار نصیب ہوگا؟

محرمِ اسرار اور روحانی تڑپ: تیسرا شعر کلام کا ایک بہت گہرا نکتہ پیش کرتا ہے۔ محبوب کے لبوں کی جنبش (چاہے وہ کلام ہو یا تبسم) روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ اس کی "خاموش ہستی" یعنی مادی وجود کب ان روحانی رازوں (اسرار) سے واقف ہوگا جن کا تعلق عالمِ بالا سے ہے۔ یہ شعر اس خاموشی اور سکون کی طرف اشارہ ہے جو معرفتِ الٰہی اور فیضانِ نبوی ﷺ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔

شاہِ خوباں اور یادوں کا سویرا: چوتھے شعر میں لفظ "شاہِ خوباں" کا استعمال اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاعر کا اشارہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی ذاتِ اقدس کی طرف ہے۔ بچھڑنے سے مراد یہاں وہ دوری ہے جو ایک امتی اپنے گناہوں یا مادی پردوں کی وجہ سے محسوس کرتا ہے۔ شاعر تڑپ کر کہتا ہے کہ میرا دل صرف یادوں کے اندھیرے سائے میں کب تک رہے گا؟ میری زندگی میں وصل کی صبح (سحر آثار) کب طلوع ہوگی؟ یہ شعر فراق کے کرب کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

تشنہ لبی اور صدقہء نظر: پانچویں شعر میں عاجزی اور انکساری کا رنگ نمایاں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں تو ایک پیاسا (تشنہ لب) ہوں اور میری اس پیاس کا مداوا صرف محبوب کی "مخمور نظروں" کے صدقے میں چھپا ہے۔ یہاں مخمور نظروں سے مراد وہ رحمت بھری نگاہ ہے جو ایک پل میں انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ شاعر کی تمنّا ہے کہ وہ اس نگاہِ کرم سے سیراب ہو جائے تاکہ زندگی کی تمام تلخیاں مٹ جائیں۔

مقطع اور امیدِ فتح: مقطع میں اسدؔ صاحب اپنے حالاتِ زندگی اور مقدر سے شکوہ کناں نظر آتے ہیں۔ کیا میری تقدیر میں صرف "مات" (شکست و ناکامی) ہی لکھی ہے؟ لیکن آخری مصرعہ ایک زبردست امید پر ختم ہوتا ہے۔ "ہماری جیت کی آخر یہاں تکرار کب ہو گی"۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ آزمائش کا وقت ختم ہونے والا ہے اور کامیابی و شادمانی کا دور واپس آئے گا۔ یہ شعر اسدؔ کے عزم اور ان کے اس یقین کو ظاہر کرتا ہے کہ بالآخر حق اور سچی محبت کی ہی جیت ہوتی ہے۔

فنی محاسن: اس غزل میں ردیف "کب ہو گی" نے ایک مسلسل اضطراب اور تجسس کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ "اسدؔ" کا تخلص مقطع میں ان کی انفرادیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ کلام "کلیاتِ اسدؔ" میں ان کے صوفیانہ اور عشقیہ رجحانات کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں محبوب کا تصور اس انداز میں کیا گیا ہے کہ وہ مجاز سے ہوتا ہوا حقیقتِ محمدیہ ﷺ تک جا پہنچتا ہے۔

شاعر: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin, Sargodha

تبصرے